مکمل مضمون

اِس صفحہ کا پرنٹ حاصل کریں | Print this Page اِس صفحہ کا پرنٹ حاصل کریں | Print this Page

نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں ہے!

(اقبال)

خدارا حج اور عمرہ کو ایک مذہبی پکنک نہ بنائیے

نفل عمرے اور حج ادا کرنے والوں کے نام ۔۔۔ ایک کھلا خط

  • میرے عزیز سادہ لوح تاجرو جو بار بار پورے خاندان کے ساتھ پانچ ستارہ (‎5-STAR) حج یا عمرہ کرنے کو عبادتِ عظیم سمجھتے ہو ۔
  • میرے قابلِ احترام عالمو، فاضلو ، مرشدو جو نفل کو بھی فرض کا درجہ دے کر بار بار چلے آتے ہو۔
  • قوم کے چالاک امیرو جو زمینات پر ناجائز قبضوں سے یا دوسری ناجائز آمدنیوں سے عمرے پر عمرے کئے جاتے ہو ۔
  • میرے پیارے ابّا جانو اور امی جانو جو اولاد کی محنت کی کمائی پرعبادتِ عظمیٰ کا لطف اُٹھاتے ہو ۔
  • میری قوم کے سیاسی لیڈرو جوبار بارسیاسی عمرے اور حج کر کے اپنے ووٹروں کو اپنی خدا خوفی کا ثبوت دیتے ہو ۔
  • سعودی عرب میں مقیم رفیقو جو بار بار حج کر کے نہ صرف قانون شکنی کرتے ہو بلکہ دوسروں کیلئے زحمت بن جاتے ہو ۔

***
السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ !

پہلے اِس واقعہ کو غور سے پڑھ لیں جو مولانا ابو الحسن علی ندوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے نقل کیا ہے۔

بشیر بن عبد الحارث (رحمۃ اللہ علیہ) ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ اِن کا ایک مرید ، ایک مرتبہ اِن کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا :
”یا مولائی ! میں نے پھر ایک بار حج کا قصد کیا ہے۔ کیا اجازت ہے؟“
بزرگ نے پوچھا : ” نیت کیا ہے؟ رضائے الٰہی یا دیدارِ کعبہ و مدینہ یا اظہارِ زہد و تقویٰ ؟“
مرید نے کچھ لمحے سوچا اور کہا : ” حضور۔ رضائے الٰہی اور کیا“۔
بزرگ نے فرمایا :
”کیا میں تمہیں ایک ایسی بات بتاؤں جس پر عمل کر کے حج پر گئے بغیر ایک تو تمہار احج بھی ہو جائے ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارا حج قبول بھی کر لے اور تیسرے یہ کہ تمہیں حج کر نے کی خوشی اور اطمینان بھی حاصل ہو جائے ؟“
مرید نے پوری فرمانبرداری سے کہا : ”حضور ضرور بتائیے“۔
بزرگ نے فرمایا کہ : ”اگر تم حج پر خرچ ہو نے والی رقم کو ان مسکینوں اور ناداروں میں تقسیم کر دو جو کثرتِ اولاد کی وجہ سے یا قرض یا بیماری یا کسی اور وجہ سے محتاج ہیں یا کسی ایسے شخص کی مدد کردو جو صاحبِ نصاب نہیں لیکن تجارت کر کے صاحب نصاب بن سکتا ہے اور دوسرے لوگوں کے روز گار کا ذریعہ بن سکتا ہے تو اس عمل سے نہ صرف تمہارا نفل حج بھی قبول ہو جائے گا بلکہ اللہ بھی تم سے راضی ہو جائے گا۔ اب بتاؤ کیا چاہتے ہو ؟ “
مرید سوچ میں پڑ گیا اور بہت دیر بعد جھجھکتے ہوئے بولا :
” حضور دراصل طبیعت حج کر نے پر مائل ہے “ (یعنی اب موڈ بن چکا ہے)۔
بزرگ نے فرمایا :
”شیطان، انسان کے نفس پر نیکیوں ہی کے بہانے قابو پاتا ہے اور اُس سے وہی اعمال کرواتا ہے جو اُس کے نفس کو مرغوب ہوں“۔

***
ذرا غور کیجئے ۔۔۔
آج ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں ساری دنیا میں ایک طرف مسلمان اخلاقی ، سیاسی اور معاشی طور پر ذلیل سے ذلیل تر ہوتا جا رہا ہے تو دوسری طرف مکہ اور مدینہ کو دوڑ دوڑ کر آنے والوں کی تعداد میں ہر سال لاکھوں کا اضافہ ہو رہا ہے ۔
حرم شریف میں شبِ قدر کی دُعا میں شریک ہو نے کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے آنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ پھر بھی نہ کوئی دعا قبول ہوتی ہے نہ کسی مسلمان کے اخلاق یا کردار میں تبدیلی آتی ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے ؟

ایسا اس لئے ہے کہ آج ہمارا ہر عمل وہ ہے جو ہمارے نفس کو مرغوب ہے ۔ ایسا کوئی حکم جو اللہ اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیا ہو لیکن اگر وہ۔۔۔
ہمارے موڈ کے خلاف ہو ،
مزاج اور اصول سے میل نہ کھا تا ہو
یا اُسے ہماری عقل اور منطق (Rationale & logic) تسلیم نہ کرتی ہو،
تو ہم اُس پر ہر گز عمل نہیں کرتے !
نہ صرف اُسے ٹال دیتے ہیں بلکہ ضمیر کی تسلی کیلئے کوئی نہ کوئی جواز بھی پیدا کر لیتے ہیں ۔بلکہ فتوے بھی ساتھ لئے پھرتے ہیں۔

پوچھئے کسی بے پردہ خاتون سے ، کہے گی پردہ آنکھوں میں اور دل میں ہونا چاہئے۔
پوچھئے کسی بھی سمجھدار مسلمان سے دعوت و تبلیغ کی فرضیت کے بارے میں تو کہے گا پہلے آدمی کو خود باعمل ہونا چاہئے اُسکے بعد دوسروں کو دعوت دینی چاہئے۔
پوچھئے کسی بھی جہیز کے عوض بِکنے والے بھکاری بے غیرت مرد سے ، کہے گا ہم نے ہرگز نہیں مانگا لڑکی والوں نے سب کچھ اپنی خوشی سے دیا۔
پوچھئے سود اور رشوت کے نظام کا ساتھ دینے والوں سے ۔کہیں گے یہ تو سسٹم ہے ۔
پوچھئے جھوٹ، غیبت، چغلی،بدگمانی،حسد اور فریب کرنے والوں سے، کہیں گے دلوں کا حال تو اللہ جانتا ہے۔ ہم بُری نیّت سے کوئی کام نہیں کرتے۔
پوچھئے قطع رحمی یعنی رشتے داریاں کاٹنے والوں سے ، کہیں گے اگر دوسرے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے۔

ہر شخص یو ں تو نمازی اور با عمل ہے لیکن ہر ایک نے اپنی پسند کی عبادت کو پکڑ رکھا ہے ۔ کسی کو داڑھی پسند ہے تو کسی کو نماز ۔کسی کو نفل عمرے یا حج کرنا تو کسی کو خدمت خلق کا ادارہ کھولنا پسند ہے ۔لیکن جب وہ مرحلہ آتا ہے جس کا حکم سب سے پہلے انکی ذات پر نافذ ہوتا ہے تو منہ موڑ جاتے ہیں اور وہی بہانے بناتے ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔اسی فطرت کی عکاسی سورہ الحجرات (آیت:14) میں یوں کی گئی ہے :
قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
ترجمہ : یہ بدّو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ۔ان سے کہہ دیجئے تم ایمان نہیں لائے تم یہ کہو کہ اسلام لائے ہو۔ایمان تو تمہارے دلو ں میں ابھی داخل بھی نہیں ہوا۔

اسلام لائے ۔۔۔ یعنی دوسرے لوگ جو کام کر رہے ہیں تم بھی کر رہے ہو !
دوسرے نماز پڑھتے ہیں تم بھی پڑھتے ہو دوسرے روزہ ، زکٰوة ، ختنہ، نکاح اور تدفین وغیرہ کے اسلامی اصولوں پر چلتے ہیں، تم بھی چلتے ہوتاکہ مسلمان سوسائٹی میں تمہیں بھی شمار کیا جائے۔ لیکن ایمان لانا الگ چیز ہے جو ابھی تمہارے دلوں میں داخل بھی نہیں ہوا، صرف زبانوں پر ہے ۔اسی لئے جب اصل امتحان کا وقت آتا ہے تو تم دوسری عبادتوں کو پیش کر کے اپنے ضمیر کی تسلی کرنا چاہتے ہو جو دراصل اللہ تعالٰیٰ کو چکمہ دینا ہے ۔ ایک کمانے والے سے حلال کمائی کا سوال پہلے ہوگا بعد میں نمازوں کا ۔ ایک دولہے یا دولہے کے ماں باپ سے جوڑا جہیز اور غیر اسلامی رسومات کا سوال پہلے ہوگا ، روزوں اور زکوٰة کا بعد میں ۔
اسی طرح ایک استطاعت رکھنے والے سے نفل عمروں اور نفل حج کا سوال بعد میں ہوگا پہلے انفاق کا ۔

لوگ اِس حدیث کو تو یاد رکھتے ہیں کہ ایک حج سے دوسرے حج کے درمیان اور ایک عمرے سے دوسرے عمرے کے درمیان تمام صغیرہ گناہوں کو معاف کردیا جائے گا لیکن اُس حدیث کو بھول جاتے ہیں کہ
پانچ چیزوں کا جواب دئے بغیر قیامت کے دن کوئی ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکے گا (چاہے اُسکے ساتھ دوسری عبادتوں کے پہاڑ ہی کیوں نہ ہوں ) :
1: وقت
2: جوانی کی صلاحیتیں
3: مال آیا کہاں سے؟
4: مال خرچ کہاں اور کس طرح ہوا؟
5: علم (حاصل کرنے اور پھیلانے کی کتنی جستجو کی)۔

***
کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بار بار کے عمرے اور حج پر ٹراویلنگ ایجنٹ کو لاکھو ں روپے دیتے وقت کوئی دکھ نہیں ہو تا لیکن ایک ضرورت مند سامنے آجائے یا اُمت کی فلاح کے لئے کوئی اپیل کر دے تو طبیعت پر ناگواری طاری ہو جاتی ہے ۔ ایک دو ہزار جیب سے نکالتے بھی ہیں تو دِلی تکلیف ہو تی ہے۔ اِنہیں جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ مانگنے والا ان کا بعد میں احسان مند اور ممنون و مشکور رہے گا دس روپے بھی نہیں دیتے۔ دیتے بھی ہیں تو اِس طرح کہ مانگنے والا اگر ان کو حساب پیش نہ کرے تو آئندہ اُسے آنے نہیں دیتے اور بدنام کرتے ہیں۔
ایسا اس لئے ہو تا ہے نفس کو حج و عمرہ مرغوب ہے ۔مرغوب عبادت میں مزا بھی آتا ہے جو پیسہ یا وقت اپنی ذات پر خرچ ہو ایسی عبادت اچھی لگتی ہے۔ انفاق یعنی اللہ کی راہ میں دوسروں پر خرچ کر نے سے اپنے مال میں کمی ہو جانے کا خوف ستاتا ہے ۔اس لئے کسی کی مدد کر نے کے سوال پر وہی کہہ اٹھتے ہیں جو مشرکین و منافقین کہہ اٹھتے تھے کہ
” وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ “
ترجمہ : ” وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم آخر کتنا خرچ کریں “۔
(سورہ البقرہ)
ڈھائی فیصد زکٰوة و خیرات تو ہم کر تے ہی ہیں اور کیا کریں ؟
آگے جواب میں کہا گیا۔
” قُلِ الْعَفْوَ “
ترجمہ: ” ان سے کہہ دیجئے سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیجئے سِوائے اسکے جو آج کی کھانے کی یا پہننے کی ضرورت کا ہے ۔ “
یہی ہے زکوٰة کا اور انفاق کا اصول !

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا قول یاد رہے :
” ڈھائی فیصد کا حساب تو منافق کر تے ہیں “۔
یعنی منافق دِکھانے کے لئے نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے۔ روزہ بھی رکھتے تاکہ کوئی ان پر اعتراض نہ کرے ۔ مومن کے لئے ڈھائی فیصد یا پانچ فیصد کا سوال ہی کیا۔ جب ضرور ت مند سامنے آجائے یا کسی غیرت مند محتاج کی خبر اسے مِل جائے تو وہ اپنے پاس جو بھی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اُس شخص کی امانت سمجھ کر فوری خرچ کر ڈالتا ہے۔ ڈھائی فیصد یا پانچ فیصد کا سوال نہیں کرتا ۔ یہ انتظار بھی نہیں کرتا کہ کوئی آئے اور اُس سے مانگے اور نہ یہ انتظار کرتا ہے کہ اُس کے مال پر سال پورا گزرا ہے یا نہیں؟
وہ خود اپنا فریضہ سمجھ کر اپنے خاندان اور قرابت داروں میں تلاش کرتا ہے کہ کون محتاج ہے اور کون بیمار؟ کون بیوہ ہے اور کون بچہ تعلیم یا روز گار سے محروم ہے۔ کون سا باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پریشان ہے اور کون حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی سنت پرقائم رہتے ہوئے بغیر جوڑا یا جہیز کے مردانہ خودداری کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مالی طور پر مجبور ہے ؟

***
ہم لوگ مشرک بت پرستوں پر ہنستے ہیں کہ ایک گنیش یا گنپتی جیسے تہوار پر کروڑوں روپیہ ضائع کر تے ہیں اور پھر لے جا کر اُسے گندے پانی میں خود ہی پھینک آتے ہیں ۔
دیوالی میں صرف کروڑوں روپیہ ضائع ہی نہیں کرتے بلکہ آتش بازی میں بے شمار جانیں بھی ضائع ہو جا تی ہیں ۔

لیکن جب ہم اپنے دامن میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہم بھی اسی غیر قوم کی طرح اپنی مرغوب عبادت پر لاکھوں خرچ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پرکسی بھی ایک شہر جیسے حیدرآباد دکن یا کراچی پاکستان کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہاں سے ہر سال کم سے کم ایسے دس ہزار افراد نفل عمرہ یا حج پر جا تے ہیں جن کا فرض حج ادا ہو چکا ہے اور حج کے علاوہ بھی وہ عمرہ کر چکے ہیں ۔ایک سفرِ عمرہ یا حج پر کم سے کم ایک لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ اگر چہ کہ آجکل سارے بڑے لیڈر ، تاجر، پہلوان اور مرشد فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کرنا اورمہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرنا اپنی شان سمجھتے ہیں ، جس پر ایک آدمی کا کم سے کم دو لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ لیکن آپ کمترین حساب سے بھی اندازہ لگائیں تو ۔۔۔
10,000 افراد ‎x‏ 100,000 روپیئے = Rs. 1,00,00,00,000 ( ایک ارب روپے)
باقی ہندوستان سے منجملہ بمبئی ، لکھنو ، دہلی، پٹنہ ، کیرالا اور بنگلور و مدراس وغیرہ سے نفل عمرے اور حج کرنے والوں کی تعداد یوں تو لاکھ سے اوپر پہنچتی ہے لیکن مثال کی خاطر اگر آپ کم سے کم صرف پچیس ہزار افراد ہی رکھیں تو حساب یہ بنتاہے :
Rs. 1,00,000 x 25,000 person = Rs. 2,50,00,00,000
یعنی ڈھائی ارب روپے = US $ 625 million

پاکستان میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں ہے۔
ہر تیسرا پاکستانی جو حج یا عمرے پر آتا ہے وہ عمرہ یا حج اُس کا نفل ہوتا ہے۔ اِس طرح پاکستانی حضرات بھی چار تا پانچ ارب روپے یعنی کم سے کم ایک بلین ڈالر ہر سال اُس عبادت پر خرچ کرتے ہیں جو فرض نہیں ہے ۔ یہ نہیں سوچتے کہ اِس خرچ کا فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟ وہ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جنکی تجوریاں پہلے سے ہی بھری پڑی ہیں۔ یعنی ایرلائینس ، ٹراویلنگ ایجنٹس ، ہوٹل مالکان، معلم وغیرہ۔

اندازہ لگائیے یہ پانچ چھ ارب روپیہ اگر ہر سال امت کی فلاح کیلئے لگ جائے تو چند سال میں یہ امت اُس مقام پر پہنچ جائے جہاں لوگ ہاتھ میں زکوٰة لئے مستحق کو ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور کوئی مستحق نہیں مِلتا۔

***
یہ تو نا ممکن ہے کہ کوئی فرد یا جماعت اٹھے اور پورے پانچ چھ ارب روپے اکٹھا کر لے۔
لیکن یہ تو ممکن ہے کہ ہر فرد ہر سال نفل عمرے یا حج کی نیت کرے اور اُسی نیّت کے ساتھ وہی رقم اپنے قریب ترین لوگوں کی تعلیم پر خرچ کر دے۔
کیونکہ جو ذہانت اللہ تعالیٰ نے ہند و پاک کے افراد کو بخشی ہے اُسکا کوئی ثانی نہیں۔ اگر اِس قوم کے پچاس فیصد افراد بھی سطح غربت سے نکل کر تعلیم سے آراستہ ہو جائیں تو امریکہ اور یورپ مات کھا جائیں۔ ہندو قوم کے افراد تعلیم، سائنس، ٹکنالوجی، کمپیوٹر، اکاؤنٹس اور فائنانس کے میدانوں میں ہندوستان یا امریکہ ہی نہیں یورپ، خلیج اور افریقہ میں بھی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ جس آفس کے بھی دروازے پر نظر ڈالیں گے وہاں ہندو نام کی تختی لگی ہوگی اور اندر ایک مسلمان ڈرائیور یا کلرک کے طور پر کام کر رہاہوگا۔ یہ دیکھ کر کیا آپ کی حمیّتِ قومی تڑپ نہیں اُٹھتی ؟
امریکہ اسرائیل اور سنگھ پریوار پر ہم لعنت تو کرتے ہیں لیکن ان سے اچھی باتیں کیوں نہیں سیکھتے؟ دیکھئے کس طرح ان کے امیر لوگ غریب طلباء کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری لے لیتے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ عمرے اور حج کرنے کو تو عبادت سمجھتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر کچھ عارضی چندہ دے دیتے ہیں لیکن کسی طالبِ علم کی تعلیم کی تکمیل تک مکمل ذمہ داری لینے میں ہمیں دور دور تک ثواب نظر نہیں آتا۔جبکہ اگر مسلمان طلباء کو موقع ملے تو وہ کسی بھی قوم کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی تو ممکن ہے کہ لوگ اپنا ایک عمرہ یا حج کم کر لیں اور مدرسوں پر لگا دیں جہاں سے وہ علماء و حفاظ نکل رہے ہیں جو امام یا موذن تو بنتے ہیں لیکن عصری تعلیم سے محرومی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مدرسوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کر دیں تو اندازہ لگائیے کہ کتنی بڑی خدمت ہو سکتی ہے؟ مدرسوں کو بجائے زکوٰة یا خیرات دے کر علماء کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانے کے ، اگر دو دو چار چار افراد مل کر پورا مدرسہ ہی اسپانسر کرلیں تو مدرسوں کو نہ صرف سو سو پچاس پچاس روپے کے چندے وصول کرنے کے عذاب سے نجات ملے گی بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کا وقار بھی بلند ہوگا۔
آج ہر دینی یا سماجی جماعت کے پاس ایک نہ ایک ایسا شاندار منصوبہ کاغذ پر موجود ہے جو اُمت کے کسی نہ کسی شعبے کو مضبوط کر سکتا ہے لیکن مال اور افراد نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ اور اہلِ استطاعت یہ چاہتے ہیں کہ خود تو کماتے رہیں اپنی مرضی سے خرچ کرتے رہیں اور مزید بچت ہو تو نفل عمرے و حج کر کے اپنے نفس کو اور موٹا کر تے رہیں ، لیکن جو لوگ جماعتوں یا اداروں میں کام کر رہے ہیں وہ نوکریاں یا کاروبار ترک کر دیں۔ بیوی بچوں کو اللہ کے نام پر چھوڑ دیں اور بس فی سبیل اللہ جماعت کا کام کر تے رہیں ۔
آپ کا بچہ تو بہترین اسکول میں پڑھے ۔امریکہ ، لندن جائے لیکن مدرسے یا جماعت والوں کے بچے سرکاری اسکول یا مفت کے مدرسے میں پڑھیں۔ کیا یہ خود غرضی نہیں ہے ؟
اپنے شوقِ عبادت کی تسکین کیلئے تو آپ ایک لاکھ روپے پھونک سکتے ہیں لیکن جماعتوں اور اداروں کے منصوبوں پر یہی رقم لگا کر پوری قوم کی ترقی کیلئے سہارا نہیں بن سکتے۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک عمرہ یا حج کی رقم اپنی جو بھی پسندیدہ جماعت ہو اس کے افراد پر یا اس جماعت کے کسی منصوبے پر خرچ کر دیں تاکہ وہ جِس مقصد سے اٹھی ہیں وہ کوئی ٹھوس کام کر سکیں ۔ اگر سو افراد بھی ایسا کر لیتے ہیں تو آج بے شمار کمزور جماعتیں اور ادارے ہیں جو دوبارہ طاقتور ہو کر قیادت کے حامل ہو سکتے ہیں ۔ مرحوم ڈپٹی نذیر احمد کے الفاظ یاد رہیں کہ :
میرے عزیزو ۔ تم ذاتی طور پر چاہے لاکھ ترقی کر لو۔ چاہے جتنے امیر اور طاقتور ہو جاؤ۔ لیکن اگر تمہاری اجتماعی طاقتیں کمزور پڑ جائیں تو تمہاری ذاتی حیثیت تم کو اجتماعی طور پر ذلیل ہو نے سے نہیں روک سکتی۔
(ابن الوقت)

بمبئی کے مسلمانوں کی مثال یاد رکھیں کہ وہاں ہزاروں امیر ہیں۔ نہ صرف ہر سال عمرہ یا حج پابندی سے کرتے ہیں بلکہ حیدرآبادیوں یا پاکستانیوں سے کہیں زیادہ زکوٰة و خیرات نکالتے ہیں۔ لیکن ان کی اجتماعی طاقتیں یعنی جماعتیں اور ادارے مال کی کمی ، آپسی اختلافات اور مسلکی جھگڑوں کی وجہ سے اتنی کمزور ہیں کہ جس وقت بابری مسجد کے بعد بدترین فسادات رونما ہوئے ، نرسمہا راؤ ، جو اُس وقت وزیراعظم تھا، فوری طور پر بمبئی پہنچا۔ شیو سینا کے جتنے متاثرین تھے اُن کی عیادت کرنے گیا لیکن نہ کسی مسلمان لیڈر سے ملا، نہ کسی مسلمان کی عیادت کی۔
لوگوں نے پوچھا : آپ مسلمانوں سے کیوں نہیں ملے ؟
اس نے کہا : ”میں کس سے ملتا؟“

یہی گجرات میں ہوا ۔ سونیا گاندھی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلمان بد ترین فسادات کا شکار ہوئے ہیں کسی مسلمان سے ملنا گوارا نہ کیا۔ وجہ صاف ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان ذاتی ترقی کا خواہشمند ہے لیکن اجتماعی طور پر طاقتور ہو نے کا اسکے پاس کوئی شعور نہیں۔ اس لئے نہ وہ کسی جماعت میں شریک ہوتا ہے نہ کسی جماعت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا کوئی منصوبہ اس کے ذہن میں ہے۔
جس قوم کے اندر اجتماعیت کا شعور نہ ہو، جس میں جماعتیں مضبوط نہ ہوں، اس قوم کو گجرات، ہاشم پورہ ، بھیونڈی ، مئو ، میرٹھ ، جمشید پور وغیرہ کی طرح تباہ و تاراج کر ڈالنا دشمن کیلئے آسان ہو جاتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس قوم کو اس کی زبان کلچر مذہب اور ادب سے محروم کر ڈالنا بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔

یہی حال پاکستان کا ہے جہاں شرحِ خواندگی %12اور سطحِ غربت پر رہنے والے %75 ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہر تاجر، ہر عالم، ہر مرشد، ہر امیر اور ہر با اثر ملازم کسی نہ کسی جماعت یا مدرسے یا ادارے سے جڑ جائے اوراُس کو مضبوط کرے ۔ جس طرح منیٰ سے ہزاروں قافلے الگ الگ نکلتے ہیں لیکن پہنچتے ایک ہی جگہ یعنی عرفات میں ہیں ۔اِسی طرح سینکڑوں جماعتیں یا ادارے ہیں۔ الگ الگ مقاصد اور طریقہ کار ہیں لیکن تمام اگر اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں تو یہ امت جس مقام پر پہنچے گی وہ ہے :
” نشاة ثانیہ “
یعنی Renaissance ۔

***
کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنے نفل عمرے کی کمائی ان بے شمار اُردو اخباروں اور رسائل پر لگا دیں جو اس زبان کو زندہ رکھنے کی کاوش میں لگے ہوئے ہیں؟
یا ان اُردو اسکولوں کی بقا پر لگا دیں جو صرف اُردو زبان کیلئے نہیں بلکہ اُردو زبان سے وابستہ ایک پورے دین ، کلچر ، تہذیب اور تاریخ کی بقا کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے شہروں کے باہر اضلاع میں ہزاروں یتیم غیر قوم کے دوسرے یتیم خانوں میں پل رہے ہیں اور غیر مذہب میں جذب ہو رہے ہیں؟
کیا ایک ایک فرد گاؤں اور دیہات میں یتیم خانے کی پوری ذمہ داری نہیں لے سکتا؟
کیا آپ نے وہ حدیث نہیں سنی کہ کسی یتیم کی پرورش کرنے والا قیامت میں میرے ساتھ اس طرح قریب ہوگا جیسے دو جُڑی ہوی اُنگلیاں ہوتی ہیں؟

آپ پوری انسانیت کی فلاح کے لئے پیدا ہوئے تھے لیکن افسوس آپ کا وقت آپ کا چندہ اور آپ کی توانائیاں صرف مسلمانوں کے لئے ہیں۔ اس لئے دوسری قومیں آپ کوانسانیت کا ہمدرد نہیں سمجھتیں۔ کیا آپ انسانیت کیلئے یہ نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص leprosy سنٹر کھول لے۔ کوئی TB یا AIDS کے لئے اپنا پیسہ وقف کر دے اور آپ بھی دوسری قوموں کو فائدہ پہنچائیں؟ کیا دوسری قوموں کے بے شمار اداروں سے مسلمان فائدہ نہیں اُٹھاتے؟

ہزاروں لڑکیاں جوڑے جہیز کی مجبوری کی وجہ سے غیر مذہب میں شادیاں کر رہی ہیں یا ان کے یہاں نوکریاں کر رہی ہیں اور بے شمار ایسی ہیں جو جسم بیچنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں ایسی ہیں جو بے سہارا ہیں۔ شوہر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں یا ناکارہ ہیں۔ ان کے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور چور اُچکے بن رہے ہیں ۔
کیا آپ کو انگریزی اور دوسرے اخبارات پڑھتے ہوئے یہ خیال نہیں آتا کہ کہیں کسی خبر میں کسی مسلمان کا نام نہیں آتا ؟ اگر آتا ہے تو صرف جرائم و حادثات کے کالم میں۔ کیا آپ کی غیرت نہیں جاگتی؟
کیا آپ اپنے نفل عمرے اور حج کی رقوم سے ایسے سنٹر قائم نہیں کر سکتے جہاں ایسی بے سہارا عورتوں اور ان کے بچوں کو سہارا دیا جا سکے؟

کون نہیں جانتا کہ جوڑا یا جہیز چاہے خوشی سے دیا جائے یا مطالبے پر، دونوں صورتوں میں حرام ہے۔ شادی کے دن کا کھانا جس کا خرچ لڑکی والوں پر ڈال دیا جاتا ہے یہ سب حرام ہیں۔لیکن لوگ جانتے بوجھتے اپنے فائدے کیلئے منافقت کرتے ہیں اور ان چیزوں کو جائز کرلیتے ہیں۔
ایک عمرے کی رقم میں کم سے کم پانچ ہزار کی تعداد میں ایک کتاب شائع ہو سکتی ہے جس کے ذریعے ان حرام کاموں سے لوگوں کو آگاہ کر کے رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ اپنے نفل عمروں اور حج کی رقموں کو ان قابل طلباء کے لئے وقف نہیں کر سکتے جن کے اندر بہترین تقریری اور تحریری صلاحیتیں ہیں جو غیر مسلموں میں جا کر سمینار یا ڈائیلاگ یا DEBATE کے ذریعے اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ان کے ذہنوں میں بٹھا دی گئی ہیں اُن کو دور کر سکتے ہیں؟
یہی تو ہندو کر رہا ہے۔ یہی تو امریکہ اور اسرائیل کرتے ہیں۔

کیا آپ اُن کتابوں کو ہندی ، انگریزی ، تلگو، مراٹھی وغیرہ میں ترجمے کروا کے زندہ نہیں کر سکتے جو ہزاروں کی تعداد میں آج اُردو میں ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہی ہیں اور ان کے ساتھ ہی آپ کے دین کا اور تاریخ و ادب کا ایک عظیم سرمایہ ختم ہی نہیں بلکہ نیست و نابود ہو رہا ہے؟
صرف ایک نفل عمرے یا حج کی قیمت میں کم سے کم دو کتابیں شائع ہوسکتی ہیں جو جب تک پڑھی جاتی رہیں گی آپ کیلئے نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔

آج ہر شہر وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے اور مسلمان بھی ایک سے ایک اعلٰی اور شاندار گھر بنا رہے ہیں لیکن دور دور تک کوئی مسجد نہیں ملتی۔ کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں کوئی مسجد نہیں ہے۔ بے حِسی کی انتہا یہ ہے کہ خود مسلمان ایسے کئی پلاٹنگ کے کاروبار میں شامل ہیں جس میں کمرشیل پلاٹ تو سینکڑوں ہوتے ہیں لیکن پوری کالونی میں کوئی مسجد نہیں ہوتی ۔ اگر ہوتی بھی ہے تو بمشکل سو آدمیوں کیلئے بھی کافی نہیں ہوتی۔ کیا آپ دو چار حضرات مِل کر اپنے عمروں اور حجوں کی رقموں سے نئی نئی بستیوں میں مسجدیں تعمیر نہیں کر سکتے؟

کتنے ایسے بے گناہ معصوم نوجوان ہیں جن کو دہشت گردی کے جرم میں مہینوں بلکہ سالوں سے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے اور جو اپنے خاندانوں کے واحد کمانے والے ہیں۔ اِن کو آزاد کروانا قُرآن کے الفاظ میں ”گردنوں کو چُھڑانے “ کی تعریف میں داخل ہے۔ ایک ایک نفل عمرے یا حج کی قیمت میں ایک ایک خاندان مصیبت سے آزاد ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اِن کاموں میں سے کسی کام کو بھی ضروری نہیں سمجھتے کوئی بات نہیں لیکن اُس کام کو تو شروع کر سکتے ہیں جو آپ ہی کے ذہن میں سب سے زیادہ اہم ہے اور جس سے امت کا فائدہ ہو سکتا ہے؟ اس طرح کسی کا ذہن دینی میدان میں تو کسی کا تعلیمی میدان میں کسی کا ادبی میدان میں تو کسی کا اور کسی میدان میں کام کرے گا۔
اس طرح ہندوستان اور پاکستا ن سے ہر سال ہزاروں نفل عمرہ اور حج پر جانے والوں کا ایک ایک لاکھ روپیہ اگر مختلف اجتماعی ترقی کے کاموں پر لگنا شروع ہو جائے تو ان شاءاللہ آئندہ 10 تا 15 سال میں اس امت کا اخلاقی معاشی دینی و سیاسی نقشہ بدل جائے گا۔

***
اب آئیے اُن داخلی حاجیوں پر گفتگو ہوجائے جو مملکتِ سعودی عرب کے مختلف حصّوں سے ہر دو چار سال بعد معلّمین کو کم سے کم دو ہزار ریال فی کس دے کر چلے آتے ہیں ۔
جہاں تک سال کے دوسرے مہینوں میں عمرے کرنے کا سوال ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن جہاں تک پیسہ خرچ کر کے حج پر آکے دوسرے حاجیوں کے لئے مسائل کھڑے کرنے کا سوال ہے اُن پر بھی وہی اخلاقی ذمہ داری ہے جو ہند و پاک سے نفل عمروں اور حج پر آنے والوں پر ہے کہ وہ دوسروں کے لئے رکاوٹ نہ بنیں۔

سعودی حکومت حج کے شاندارانتظامات کے معاملے میں اپنا ریکارڈ رکھتی ہے اس کے باوجود اژدھام کی وجہ سے ہر سال بے شمار جانیں حادثات کی نذر ہوجاتی ہیں۔اتنے لاکھ حاجیوں کا انتظام کوئی معمولی کارنامہ نہیں لیکن اگر لوگ تعاون نہ کریں توحادثات ہی نہیں بلکہ رہائش، بلدیہ، ٹریفک وغیرہ کے مسائل کو بھی قابومیں نہیں کیا جا سکتا۔
حکومتِ سعودی عرب ہر سال کوشش کرتی ہے کہ پہلی بار عمرہ یا حج کرنے والوں کو پہلے موقع ملے۔ لیکن نفل حج اور عمرے والے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں اوراِتنی بھیڑ کر دیتے ہیں کہ خود کو بھی اور دوسروں کو بھی عبادت کے صحیح لطف سے محروم کر ڈالتے ہیں۔ حیرت تو اُن اقامہ ہولڈر حاجیوں پر ہوتی ہے جو سعودی قانون سے واقف ہیں لیکن قانون توڑنے کو وطیرہ بنا رکھا ہے۔
کیا ایسے حاجی اور ان کی مدد کرنے والے معلّمین جو انہیں بغیر تصریح کے حج کرنے میں مدد کرتے ہیں قیامت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک قانون شکن نہیں ہیں؟ ہمیں کئی ایسے خود ساختہ مفتی اور عالم ملے جو حج کرنے کے لیے ملکی قانون کو توڑنا جائز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ضرور پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ سعودی علماء کبھی ایسا قانون جاری ہونے نہیں دیتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ لوگوں کو چاہئے کہ قانون کا احترام کریں۔

یاد رکھئے اگر نفل حج اور عمروں کی کثرت کا عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو محبوب ہوتا تو سیرتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور سیرتِ صحابہ (رضی اللہ عنہم) اس کے ذکر سے بھری ہوتیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایسے کئی اعمال کی تلقین فرمائی جن کا کرنا نفل حج یا عمرہ ہی کے برابر ہے جیسے کسی غلام کو آزاد کروانا، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے باہر نکالنا۔
ایک موقع ایسا بھی آیا جب ایک صحابی (رضی اللہ عنہ) نے اصرار کے ساتھ پوچھنا شروع کیا کہ : کیا ہر سال حج فرض کیا گیا ہے؟
تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُنہیں غصّے سے فرمایا : نہیں !

***
میرے محترم صاحبو۔
حج یا عمرہ ایرپورٹ تا ایرپورٹ کا سفر نہیں۔
اِس کا سفر ، ابراہیمی (علیہ السلام) عزم ِسفر ہے جس کا آغاز رشتے داروں کی دعوتِ طعام اور گلپوشی سے نہیں ہوتا اور نہ اس کا اختتام گلپوشیوں اور مبارکبادیوں پر ہوتا ہے۔
حج یا عمرہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اُس سفر کا نام ہے جو قُم (عراق) سے شروع ہوکر مکّہ پر ختم ہوتا ہے۔ جو اِس سفر کے لئے تیار ہو اُس کی پہلی منزل گھر سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی اُس ناجائز کمائی کے خلاف ہوتی ہے جو کہ اُس وقت معزّز اور جائز آمدنی کا ذریعہ سمجھاجاتا تھا۔
گھر سے نکال دیا جانا حج کے سفر کا آغاز ہے۔
دوسری منزل میں بتوں کو توڑنا ہے۔ صرف پتھر کے بت ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ خوف کے بت، قانون کے بت، بیوی بچوں کے مستقبل کے بت، والدین کی جان مال اور عزت کے بت، خود اپنی جان و مال کے بت۔ ان تمام بتوں کو توڑنے کیلئے سب سے پہلے شرک کے بت کو توڑ کر وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ہی اصل حج کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانونِ وقت آپ کیلئے سزائے موت تجویز کرتا ہے۔ ماں باپ قطع تعلق کرلیتے ہیں، دوست احباب اور رشتے دار دشمن بن جاتے ہیں۔
گھر کے قریب کسی مندر میں گھس کر کسی بت کو توڑ دینا یا گھر سے بت پرستی کی مشرکانہ اور بدعتانہ نشانیوں اور رسموں کو بھی ختم کر دینا آسان ہے لیکن اُن مذکورہ بتوں کا توڑنا آسان نہیں جو ہمارے مزاج میں شامل ہوچکے ہیں۔جن بتوں کی بدولت سماج میں ہمارا مقام ہے۔ انہی کی بدولت تو ہماری بیٹیوں اور بیٹوں کے اچھے گھرانوں سے رشتے آتے ہیں۔

ان بتوں کو دھکّا لگائے بغیر کوئی یہ چاہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خلافت و امامت حاصل کرلے تو یہ ناممکن ہے۔ لیکن جس کے لئے ممکن ہوجائے اُسکے لئے آتشِ نمرود گلستان بن جاتی ہے۔ عقل تماش بیں بن کرحیرت میں ڈوب جاتی ہے اور عشق آگ میں انجام کے خوف سے بے نیاز ہوکر کود پڑتا ہے۔ یہاں دراصل حج کے سفر کا ایمیگریشن ہے۔ اِس سفر کیلئے گھر بار ماں باپ ہی نہیں وطن سے نکال دیا جانا ضروری ہوتاہے تب جاکر مکہ کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے۔ مکہ پہنچنے پر حج کا فوری اختتام نہیں ہوتا بلکہ پہلے ساری دنیا کی امامت سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن اِس سے پہلے ایک آخری امتحان اور ہوتا ہے جو سعودی کے ویزا کی طرح اہم ہے۔ اگر بغیر ویزا کے کوئی احرام باندھ کر پہنچ جائے تو اُس کا جو بھی انجام ہوتا ہے وہی انجام معنوی طور پر اُس حج یا عمرے کا بھی ہوتا ہے جو بغیر اِس آخری شرط کے حج یا عمرے کو مکمل سمجھتا ہے۔

گھر، ماں باپ، محلّہ اور وطن چھوڑنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جاہل بیویوں کی وجہ سے لوگ ماں باپ کو یوں بھی چھوڑتے ہیں۔ روزگار کیلئے وطن کو بھی چھوڑتے ہیں لیکن کوئی اپنی اولاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔اُس کی خاطر تو انسان حلال و حرام کی فکر سے بھی بے نیاز ہو جاتا ہے۔ لیکن حج یا عمرہ جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ادا کیا وہ اولاد کی قربانی کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔ اس کا علامتی ثبوت یہ ہے کہ جب قربانی کے جانور پر آدمی چُھری پھیرتا ہے تو دل میں پہلے یہ ٹھوس ارادہ کر لیتا ہے کہ اگر اللہ کے حکم کے آگے اولاد بھی آجائے تو اُسے یوں ہی قربان کر دوں گا ۔

بدقسمتی سے آج لاکھوں بکرے گائے اور اونٹ ذبح تو ہو رہے ہیں، گوشت تقسیم تو ہو رہا ہے۔ فقہی مسائل جیسے جانور کیسا ہو، اس کی عمر کیا ہو، ذبح کرتے وقت کس طرف رُخ ہو، کیا دعا پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ جیسے مسائل تو خوب بیان ہو رہے ہیں لیکن قربانی کا مقصد کیا ہے ،اس کے کیا اثرات آپ پر ، آپ کے خاندان پر اور زمانے پر واضح ہوں یہ کہیں کوئی اللہ کا بندہ نہ غور کرتا ہے نہ کوئی اسے بیان کرتا ہے۔

***
حدیث میں آتا ہے کہ :
حج یا عمرہ کر کے لوٹنے والا معصوم بچے کی طرح پاک ہو جاتا ہے۔
معصوم بچہ سب کو پیارا ہوتا ہے۔ لوگ اس کا مذہب یا رنگ یا ذات نہیں دیکھتے۔ ہر ایک اُس سے پیار کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا، کسی کو اس سے جھوٹ ، غیبت، دھوکہ، حسد، سازش یا فساد کی توقع نہیں ہوتی۔

اگر آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے ایسے ہی پیار کریں جیسے معصوم بچے سے پیار کرتے ہیں۔
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ قربانی کا گوشت جیسے ہی کسی کے گھر پہنچے لوگ یہ جان لیں کہ آج کے بعد اللہ کے حکم کے سامنے اگر اولاد بھی رکاوٹ بنے تو آپ اولاد کو بھی اِسی طرح ذبح کر سکتے ہیں۔
اگر آپ واقعی یہ عزم رکھتے ہیں کہ ہر قسم کے بت کو توڑیں گے تو بخدا بار بار عمرے اور حج کا ارادہ کیجئے آپ کا عمرہ یا حج پورے زمانے کیلئے باعثِ تقلید ہوگا۔
ورنہ ۔۔۔
اگر حج یا عمرے کا مقصد جانے بغیر اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے چالو کھاتے میں سے کچھ گناہ کم کرنے اور کچھ نیکییاں ڈپازٹ کرنے کی نیت سے آتے رہے، معاشرے کا نظام وہی عورتوں کے ہاتھوں میں رہا اور آپ باہر تو بڑے نیک اور پارسا بنے رہے لیکن آپ کی خوشیوں اور غموں کے مواقع، شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پرورش، جمع پونجی و خرچ وغیرہ سب کچھ عورتوں کے ہاتھ میں رہے اور معاشرے کے اکثریتی مردوں کی طرح بیویوں کے غلام رہیں۔
جوڑے جہیز کی لعنت ہندو گھرانوں کی طرح آپ کے گھر کی بھی زینت بنتی رہے۔ دو دو چار چار بیٹوں کے والد ین شان سے دو دو چار چار عمرے کرتے رہیں اور بیٹیوں کے باپ قرض چکاتے چکاتے عمریں گزار دیں۔نہ گھر بدلے نہ سیاست بدلے، نہ معاشرہ بدلے نہ معاشیات کا نظام تو خدارا یہ تو سوچئے کہ سی این این اور بی بی سی وغیرہ پر کروڑوں غیر مسلم مکہ اور مدینہ میں شبِ قدر اور حج کے لاکھوں انسانوں کے مجمع کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے؟
یہی نا کہ ہندو گنپتی پر پیسہ لٹاتے ہیں اور آپ مزاروں پر یا مکہ مدینہ کے سفر پر۔ آپ کے پاس ثواب کا نظریہ ہے ان کے پاس پُنّ کا۔ کرشمے اور کرامات کے قصے آپ بھی سناتے ہیں اور وہ بھی۔کاشی اور امرناتھ جا کر یا گنگاجل میں نہا کر اُنہیں بھی اُتنی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جتنی آپ کو زم زم سے وضو کر کے۔

سوال یہ ہے کہ ایک مومن اور مشرک کی عبادت میں فرق کہاں ہے؟
جس عبادت سے زندگی کے اطوار نہیں بدلتے ،گھر خاندان اور محلّے میں جس عبادت سے ایک اخلاقی انقلاب برپا نہیں ہوتا اُس عبادت میں صرف مال، وقت اور توانائیوں کا زیاں ہوتا ہے۔ جس عابد کو فقط اپنی پسند کی عبادت کرنے کے اطمینان کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا وہ ایک مشرک کی عبادت تو ہو سکتی ہے مومن کی نہیں۔

اسلام کی کوئی عبادت ایسی نہیں جس سے انسان کی اپنی زندگی اور گھر اور خاندان میں ایک انقلاب نہ آتا ہو۔اور حج اور عمرہ تو عظیم عبادت ہے جس کے صحیح فائدے اگر پچاس فیصد بھی ظاہر ہو جائیں تو اندھے دیکھنے لگیں اور بہرے سننے لگیں۔

صاحبو! یا د رکھو ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک حاجی وہ ہوتا ہے جو احرام باندھ کر ابھی سواری پر پاؤں ہی رکھتا ہے کہ اُس کی لبّیک کی صدا کے ساتھ ہی فرشتے پکار اُٹھتے ہیں کہ مبارک ہو تجھے تیرا حج قبول کر لیاگیا
اور ۔۔۔
ایک حاجی وہ ہوتاہے جو پورا حج کر لیتاہے اپنے آپ کو تھکاتا ہے مال خرچ کرتا ہے لیکن فرشتے اُس پر افسوس کرتے ہیں ۔کہتے ہیں تیراحج تیرے منہ پر مار دیاگیا کیونکہ تیرا مال حرام، تیری کمائی، تیرا کھانا، تیرا کپڑا سب کچھ حرام سے آلودہ تھا۔

جن گھروں میں جوڑے جہیز کا حرام مال جمع ہو، جس گھر میں سود اور رشوت کا مال جمع ہو۔جب تک کہ شدید مجبوری نہ ہو سود پر گھر گاڑی اور دوسری اشیاء جمع کی گئی ہوں۔ جس کمائی کیلئے جھوٹ بولنا جائز کر لیاگیاہو۔ جن گھروں میں مال کا اسراف کرنے کے لئے ایسی ایسی نئی تقریبات ایجاد کرلی گئی ہوں جن کو نہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پسند کیا نہ صحابہ (رضوان اللہ عنہم اجمعین) نے ۔۔۔ایسے گھروں کے افراد جب حج پر حج اور عمرے پر عمرے کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ بیت اللہ کا تقدّس پامال ہوتا ہے بلکہ اسلام کی عظیم عبادتیں دنیا والوں کے لئے باعثِ تمسخر بن جاتی ہیں !!

***
میرے عزیزو !
آؤ حج بیت اللہ ، عمرے اور مدینے کی زیارتوں کیلئے ۔ بار بار آؤ۔
لیکن اپنے شوقِ عبادت کو پورا کرنے کیلئے نہیں بلکہ اُس عظیم مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کے عزم کے ساتھ آؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اِن عبادتوں کا حکم دیا ہے۔
مدینے والے (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اپنی جان و مال لٹا دینے کے دعوے کرنے والو آؤ اور مدینے والے (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک ایک فرمان کو پورا کرنے کیلئے اپنی جان لٹادینے کی قسم کھانے کو آؤ۔

اُن کا فرمان ہے کہ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
اُن کا فرمان ہے کہ دوسرے کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔
ان کا فرمان ہے کہ سچا تاجر قیامت کے روز انبیاء کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔
ان کا فرمان ہے کہ جس شخص کی کمائی میں ناجائز آمدنی کا ایک لقمہ بھی شامل ہو اُس کی دعائیں زمین سے ایک ہاتھ بھی اوپر نہیں اُٹھائی جائیں گی۔
اُن کا فرمان ہے کہ جو بندہ اوروں کی خدمت میں لگ جاتا ہے فرشتے اُس کے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔

اگر مدینے والے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ ہے تو اُن کے اِن فرامین کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کی قسم کھانے ایک بار آجاؤ اور پھر دیکھو کہ کیسے زمانے بھر میں انقلاب آتا ہے۔
ان شاء اللہ ! وہ انقلاب آئے گا کہ جب آپ اِس عمرے یا حج سے لوٹ کر جائیں گے تو آپ کا وجود ایک مکمل دعوت بن جائے گا جس کے نتیجے میں کروڑوں ہندو ، عیسائی اور دوسرے تمام باطل مذاہب کے ماننے والے عمرہ یا حج کرنے کی تمنّا کریں گے ان شاء اللہ۔
اور اگر اِس مقصد کے بغیر آنا چاہتے ہو تو یاد رکھو یہ فقط ایک مذہبی پکنک کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اِس سے کہیں بہتر ہے کہ معاشرے کی فلاح کے کسی کام میں یہ پیسہ لگا دو تاکہ دوسرے انسانوں کی زندگی کو فائدہ پہنچے اور ان کی دعائیں آپ کی آخرت کا سامان بن جائیں۔

اللہ تعالٰی ہم تمام کو یہ نکات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے !!

کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

فقط :
آپ کا خیر اندیش
علیم خان فلکی
(جدّہ ، سعودی عرب)

1 comment

  1. Pebbles says:

    You’re a real deep tihkenr. Thanks for sharing.

Leave a Reply