نشاة ثانیہ تک کیسے پہنچیں؟

یہ تو نا ممکن ہے کہ کوئی فرد یا جماعت اٹھے اور پورے پانچ چھ ارب روپے اکٹھا کر لے۔
لیکن یہ تو ممکن ہے کہ ہر فرد ہر سال نفل عمرے یا حج کی نیت کرے اور اُسی نیّت کے ساتھ وہی رقم اپنے قریب ترین لوگوں کی تعلیم پر خرچ کر دے۔
کیونکہ جو ذہانت اللہ تعالیٰ نے ہند و پاک کے افراد کو بخشی ہے اُسکا کوئی ثانی نہیں۔ اگر اِس قوم کے پچاس فیصد افراد بھی سطح غربت سے نکل کر تعلیم سے آراستہ ہو جائیں تو امریکہ اور یورپ مات کھا جائیں۔ ہندو قوم کے افراد تعلیم، سائنس، ٹکنالوجی، کمپیوٹر، اکاؤنٹس اور فائنانس کے میدانوں میں ہندوستان یا امریکہ ہی نہیں یورپ، خلیج اور افریقہ میں بھی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ جس آفس کے بھی دروازے پر نظر ڈالیں گے وہاں ہندو نام کی تختی لگی ہوگی اور اندر ایک مسلمان ڈرائیور یا کلرک کے طور پر کام کر رہاہوگا۔ یہ دیکھ کر کیا آپ کی حمیّتِ قومی تڑپ نہیں اُٹھتی ؟
امریکہ اسرائیل اور سنگھ پریوار پر ہم لعنت تو کرتے ہیں لیکن ان سے اچھی باتیں کیوں نہیں سیکھتے؟ دیکھئے کس طرح ان کے امیر لوگ غریب طلباء کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری لے لیتے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ عمرے اور حج کرنے کو تو عبادت سمجھتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر کچھ عارضی چندہ دے دیتے ہیں لیکن کسی طالبِ علم کی تعلیم کی تکمیل تک مکمل ذمہ داری لینے میں ہمیں دور دور تک ثواب نظر نہیں آتا۔جبکہ اگر مسلمان طلباء کو موقع ملے تو وہ کسی بھی قوم کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی تو ممکن ہے کہ لوگ اپنا ایک عمرہ یا حج کم کر لیں اور مدرسوں پر لگا دیں جہاں سے وہ علماء و حفاظ نکل رہے ہیں جو امام یا موذن تو بنتے ہیں لیکن عصری تعلیم سے محرومی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان مدرسوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کر دیں تو اندازہ لگائیے کہ کتنی بڑی خدمت ہو سکتی ہے؟ مدرسوں کو بجائے زکوٰة یا خیرات دے کر علماء کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانے کے ، اگر دو دو چار چار افراد مل کر پورا مدرسہ ہی اسپانسر کرلیں تو مدرسوں کو نہ صرف سو سو پچاس پچاس روپے کے چندے وصول کرنے کے عذاب سے نجات ملے گی بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کا وقار بھی بلند ہوگا۔
آج ہر دینی یا سماجی جماعت کے پاس ایک نہ ایک ایسا شاندار منصوبہ کاغذ پر موجود ہے جو اُمت کے کسی نہ کسی شعبے کو مضبوط کر سکتا ہے لیکن مال اور افراد نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ اور اہلِ استطاعت یہ چاہتے ہیں کہ خود تو کماتے رہیں اپنی مرضی سے خرچ کرتے رہیں اور مزید بچت ہو تو نفل عمرے و حج کر کے اپنے نفس کو اور موٹا کر تے رہیں ، لیکن جو لوگ جماعتوں یا اداروں میں کام کر رہے ہیں وہ نوکریاں یا کاروبار ترک کر دیں۔ بیوی بچوں کو اللہ کے نام پر چھوڑ دیں اور بس فی سبیل اللہ جماعت کا کام کر تے رہیں ۔
آپ کا بچہ تو بہترین اسکول میں پڑھے ۔امریکہ ، لندن جائے لیکن مدرسے یا جماعت والوں کے بچے سرکاری اسکول یا مفت کے مدرسے میں پڑھیں۔ کیا یہ خود غرضی نہیں ہے ؟
اپنے شوقِ عبادت کی تسکین کیلئے تو آپ ایک لاکھ روپے پھونک سکتے ہیں لیکن جماعتوں اور اداروں کے منصوبوں پر یہی رقم لگا کر پوری قوم کی ترقی کیلئے سہارا نہیں بن سکتے۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ ایک عمرہ یا حج کی رقم اپنی جو بھی پسندیدہ جماعت ہو اس کے افراد پر یا اس جماعت کے کسی منصوبے پر خرچ کر دیں تاکہ وہ جِس مقصد سے اٹھی ہیں وہ کوئی ٹھوس کام کر سکیں ۔ اگر سو افراد بھی ایسا کر لیتے ہیں تو آج بے شمار کمزور جماعتیں اور ادارے ہیں جو دوبارہ طاقتور ہو کر قیادت کے حامل ہو سکتے ہیں ۔ مرحوم ڈپٹی نذیر احمد کے الفاظ یاد رہیں کہ :
میرے عزیزو ۔ تم ذاتی طور پر چاہے لاکھ ترقی کر لو۔ چاہے جتنے امیر اور طاقتور ہو جاؤ۔ لیکن اگر تمہاری اجتماعی طاقتیں کمزور پڑ جائیں تو تمہاری ذاتی حیثیت تم کو اجتماعی طور پر ذلیل ہو نے سے نہیں روک سکتی۔
(ابن الوقت)

بمبئی کے مسلمانوں کی مثال یاد رکھیں کہ وہاں ہزاروں امیر ہیں۔ نہ صرف ہر سال عمرہ یا حج پابندی سے کرتے ہیں بلکہ حیدرآبادیوں یا پاکستانیوں سے کہیں زیادہ زکوٰة و خیرات نکالتے ہیں۔ لیکن ان کی اجتماعی طاقتیں یعنی جماعتیں اور ادارے مال کی کمی ، آپسی اختلافات اور مسلکی جھگڑوں کی وجہ سے اتنی کمزور ہیں کہ جس وقت بابری مسجد کے بعد بدترین فسادات رونما ہوئے ، نرسمہا راؤ ، جو اُس وقت وزیراعظم تھا، فوری طور پر بمبئی پہنچا۔ شیو سینا کے جتنے متاثرین تھے اُن کی عیادت کرنے گیا لیکن نہ کسی مسلمان لیڈر سے ملا، نہ کسی مسلمان کی عیادت کی۔
لوگوں نے پوچھا : آپ مسلمانوں سے کیوں نہیں ملے ؟
اس نے کہا : ”میں کس سے ملتا؟“

یہی گجرات میں ہوا ۔ سونیا گاندھی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلمان بد ترین فسادات کا شکار ہوئے ہیں کسی مسلمان سے ملنا گوارا نہ کیا۔ وجہ صاف ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان ذاتی ترقی کا خواہشمند ہے لیکن اجتماعی طور پر طاقتور ہو نے کا اسکے پاس کوئی شعور نہیں۔ اس لئے نہ وہ کسی جماعت میں شریک ہوتا ہے نہ کسی جماعت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا کوئی منصوبہ اس کے ذہن میں ہے۔
جس قوم کے اندر اجتماعیت کا شعور نہ ہو، جس میں جماعتیں مضبوط نہ ہوں، اس قوم کو گجرات، ہاشم پورہ ، بھیونڈی ، مئو ، میرٹھ ، جمشید پور وغیرہ کی طرح تباہ و تاراج کر ڈالنا دشمن کیلئے آسان ہو جاتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس قوم کو اس کی زبان کلچر مذہب اور ادب سے محروم کر ڈالنا بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔

یہی حال پاکستان کا ہے جہاں شرحِ خواندگی %12اور سطحِ غربت پر رہنے والے %75 ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہر تاجر، ہر عالم، ہر مرشد، ہر امیر اور ہر با اثر ملازم کسی نہ کسی جماعت یا مدرسے یا ادارے سے جڑ جائے اوراُس کو مضبوط کرے ۔ جس طرح منیٰ سے ہزاروں قافلے الگ الگ نکلتے ہیں لیکن پہنچتے ایک ہی جگہ یعنی عرفات میں ہیں ۔اِسی طرح سینکڑوں جماعتیں یا ادارے ہیں۔ الگ الگ مقاصد اور طریقہ کار ہیں لیکن تمام اگر اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں تو یہ امت جس مقام پر پہنچے گی وہ ہے :
” نشاة ثانیہ “
یعنی Renaissance ۔

Leave a Reply