حج / عمرہ کے حقیقی مقاصد

میرے محترم صاحبو۔
حج یا عمرہ ایرپورٹ تا ایرپورٹ کا سفر نہیں۔
اِس کا سفر ، ابراہیمی (علیہ السلام) عزم ِسفر ہے جس کا آغاز رشتے داروں کی دعوتِ طعام اور گلپوشی سے نہیں ہوتا اور نہ اس کا اختتام گلپوشیوں اور مبارکبادیوں پر ہوتا ہے۔
حج یا عمرہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اُس سفر کا نام ہے جو قُم (عراق) سے شروع ہوکر مکّہ پر ختم ہوتا ہے۔ جو اِس سفر کے لئے تیار ہو اُس کی پہلی منزل گھر سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی اُس ناجائز کمائی کے خلاف ہوتی ہے جو کہ اُس وقت معزّز اور جائز آمدنی کا ذریعہ سمجھاجاتا تھا۔
گھر سے نکال دیا جانا حج کے سفر کا آغاز ہے۔
دوسری منزل میں بتوں کو توڑنا ہے۔ صرف پتھر کے بت ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ خوف کے بت، قانون کے بت، بیوی بچوں کے مستقبل کے بت، والدین کی جان مال اور عزت کے بت، خود اپنی جان و مال کے بت۔ ان تمام بتوں کو توڑنے کیلئے سب سے پہلے شرک کے بت کو توڑ کر وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ہی اصل حج کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قانونِ وقت آپ کیلئے سزائے موت تجویز کرتا ہے۔ ماں باپ قطع تعلق کرلیتے ہیں، دوست احباب اور رشتے دار دشمن بن جاتے ہیں۔
گھر کے قریب کسی مندر میں گھس کر کسی بت کو توڑ دینا یا گھر سے بت پرستی کی مشرکانہ اور بدعتانہ نشانیوں اور رسموں کو بھی ختم کر دینا آسان ہے لیکن اُن مذکورہ بتوں کا توڑنا آسان نہیں جو ہمارے مزاج میں شامل ہوچکے ہیں۔جن بتوں کی بدولت سماج میں ہمارا مقام ہے۔ انہی کی بدولت تو ہماری بیٹیوں اور بیٹوں کے اچھے گھرانوں سے رشتے آتے ہیں۔

ان بتوں کو دھکّا لگائے بغیر کوئی یہ چاہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خلافت و امامت حاصل کرلے تو یہ ناممکن ہے۔ لیکن جس کے لئے ممکن ہوجائے اُسکے لئے آتشِ نمرود گلستان بن جاتی ہے۔ عقل تماش بیں بن کرحیرت میں ڈوب جاتی ہے اور عشق آگ میں انجام کے خوف سے بے نیاز ہوکر کود پڑتا ہے۔ یہاں دراصل حج کے سفر کا ایمیگریشن ہے۔ اِس سفر کیلئے گھر بار ماں باپ ہی نہیں وطن سے نکال دیا جانا ضروری ہوتاہے تب جاکر مکہ کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے۔ مکہ پہنچنے پر حج کا فوری اختتام نہیں ہوتا بلکہ پہلے ساری دنیا کی امامت سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن اِس سے پہلے ایک آخری امتحان اور ہوتا ہے جو سعودی کے ویزا کی طرح اہم ہے۔ اگر بغیر ویزا کے کوئی احرام باندھ کر پہنچ جائے تو اُس کا جو بھی انجام ہوتا ہے وہی انجام معنوی طور پر اُس حج یا عمرے کا بھی ہوتا ہے جو بغیر اِس آخری شرط کے حج یا عمرے کو مکمل سمجھتا ہے۔

گھر، ماں باپ، محلّہ اور وطن چھوڑنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جاہل بیویوں کی وجہ سے لوگ ماں باپ کو یوں بھی چھوڑتے ہیں۔ روزگار کیلئے وطن کو بھی چھوڑتے ہیں لیکن کوئی اپنی اولاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔اُس کی خاطر تو انسان حلال و حرام کی فکر سے بھی بے نیاز ہو جاتا ہے۔ لیکن حج یا عمرہ جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ادا کیا وہ اولاد کی قربانی کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔ اس کا علامتی ثبوت یہ ہے کہ جب قربانی کے جانور پر آدمی چُھری پھیرتا ہے تو دل میں پہلے یہ ٹھوس ارادہ کر لیتا ہے کہ اگر اللہ کے حکم کے آگے اولاد بھی آجائے تو اُسے یوں ہی قربان کر دوں گا ۔

بدقسمتی سے آج لاکھوں بکرے گائے اور اونٹ ذبح تو ہو رہے ہیں، گوشت تقسیم تو ہو رہا ہے۔ فقہی مسائل جیسے جانور کیسا ہو، اس کی عمر کیا ہو، ذبح کرتے وقت کس طرف رُخ ہو، کیا دعا پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ جیسے مسائل تو خوب بیان ہو رہے ہیں لیکن قربانی کا مقصد کیا ہے ،اس کے کیا اثرات آپ پر ، آپ کے خاندان پر اور زمانے پر واضح ہوں یہ کہیں کوئی اللہ کا بندہ نہ غور کرتا ہے نہ کوئی اسے بیان کرتا ہے۔

Leave a Reply