نفل حج / عمرہ اور سعودی عرب کے مقیمین

اب آئیے اُن داخلی حاجیوں پر گفتگو ہوجائے جو مملکتِ سعودی عرب کے مختلف حصّوں سے ہر دو چار سال بعد معلّمین کو کم سے کم دو ہزار ریال فی کس دے کر چلے آتے ہیں ۔
جہاں تک سال کے دوسرے مہینوں میں عمرے کرنے کا سوال ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن جہاں تک پیسہ خرچ کر کے حج پر آکے دوسرے حاجیوں کے لئے مسائل کھڑے کرنے کا سوال ہے اُن پر بھی وہی اخلاقی ذمہ داری ہے جو ہند و پاک سے نفل عمروں اور حج پر آنے والوں پر ہے کہ وہ دوسروں کے لئے رکاوٹ نہ بنیں۔

سعودی حکومت حج کے شاندارانتظامات کے معاملے میں اپنا ریکارڈ رکھتی ہے اس کے باوجود اژدھام کی وجہ سے ہر سال بے شمار جانیں حادثات کی نذر ہوجاتی ہیں۔اتنے لاکھ حاجیوں کا انتظام کوئی معمولی کارنامہ نہیں لیکن اگر لوگ تعاون نہ کریں توحادثات ہی نہیں بلکہ رہائش، بلدیہ، ٹریفک وغیرہ کے مسائل کو بھی قابومیں نہیں کیا جا سکتا۔
حکومتِ سعودی عرب ہر سال کوشش کرتی ہے کہ پہلی بار عمرہ یا حج کرنے والوں کو پہلے موقع ملے۔ لیکن نفل حج اور عمرے والے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں اوراِتنی بھیڑ کر دیتے ہیں کہ خود کو بھی اور دوسروں کو بھی عبادت کے صحیح لطف سے محروم کر ڈالتے ہیں۔ حیرت تو اُن اقامہ ہولڈر حاجیوں پر ہوتی ہے جو سعودی قانون سے واقف ہیں لیکن قانون توڑنے کو وطیرہ بنا رکھا ہے۔
کیا ایسے حاجی اور ان کی مدد کرنے والے معلّمین جو انہیں بغیر تصریح کے حج کرنے میں مدد کرتے ہیں قیامت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک قانون شکن نہیں ہیں؟ ہمیں کئی ایسے خود ساختہ مفتی اور عالم ملے جو حج کرنے کے لیے ملکی قانون کو توڑنا جائز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ضرور پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ سعودی علماء کبھی ایسا قانون جاری ہونے نہیں دیتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ لوگوں کو چاہئے کہ قانون کا احترام کریں۔

یاد رکھئے اگر نفل حج اور عمروں کی کثرت کا عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو محبوب ہوتا تو سیرتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور سیرتِ صحابہ (رضی اللہ عنہم) اس کے ذکر سے بھری ہوتیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایسے کئی اعمال کی تلقین فرمائی جن کا کرنا نفل حج یا عمرہ ہی کے برابر ہے جیسے کسی غلام کو آزاد کروانا، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے باہر نکالنا۔
ایک موقع ایسا بھی آیا جب ایک صحابی (رضی اللہ عنہ) نے اصرار کے ساتھ پوچھنا شروع کیا کہ : کیا ہر سال حج فرض کیا گیا ہے؟
تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُنہیں غصّے سے فرمایا : نہیں !

Leave a Reply