کچھ حساب کتاب یوں بھی ۔۔۔

ہم لوگ مشرک بت پرستوں پر ہنستے ہیں کہ ایک گنیش یا گنپتی جیسے تہوار پر کروڑوں روپیہ ضائع کر تے ہیں اور پھر لے جا کر اُسے گندے پانی میں خود ہی پھینک آتے ہیں ۔
دیوالی میں صرف کروڑوں روپیہ ضائع ہی نہیں کرتے بلکہ آتش بازی میں بے شمار جانیں بھی ضائع ہو جا تی ہیں ۔

لیکن جب ہم اپنے دامن میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہم بھی اسی غیر قوم کی طرح اپنی مرغوب عبادت پر لاکھوں خرچ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پرکسی بھی ایک شہر جیسے حیدرآباد دکن یا کراچی پاکستان کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہاں سے ہر سال کم سے کم ایسے دس ہزار افراد نفل عمرہ یا حج پر جا تے ہیں جن کا فرض حج ادا ہو چکا ہے اور حج کے علاوہ بھی وہ عمرہ کر چکے ہیں ۔ایک سفرِ عمرہ یا حج پر کم سے کم ایک لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ اگر چہ کہ آجکل سارے بڑے لیڈر ، تاجر، پہلوان اور مرشد فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کرنا اورمہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرنا اپنی شان سمجھتے ہیں ، جس پر ایک آدمی کا کم سے کم دو لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ لیکن آپ کمترین حساب سے بھی اندازہ لگائیں تو ۔۔۔
10,000 افراد ‎x‏ 100,000 روپیئے = Rs. 1,00,00,00,000 ( ایک ارب روپے)
باقی ہندوستان سے منجملہ بمبئی ، لکھنو ، دہلی، پٹنہ ، کیرالا اور بنگلور و مدراس وغیرہ سے نفل عمرے اور حج کرنے والوں کی تعداد یوں تو لاکھ سے اوپر پہنچتی ہے لیکن مثال کی خاطر اگر آپ کم سے کم صرف پچیس ہزار افراد ہی رکھیں تو حساب یہ بنتاہے :
Rs. 1,00,000 x 25,000 person = Rs. 2,50,00,00,000
یعنی ڈھائی ارب روپے = US $ 625 million

پاکستان میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں ہے۔
ہر تیسرا پاکستانی جو حج یا عمرے پر آتا ہے وہ عمرہ یا حج اُس کا نفل ہوتا ہے۔ اِس طرح پاکستانی حضرات بھی چار تا پانچ ارب روپے یعنی کم سے کم ایک بلین ڈالر ہر سال اُس عبادت پر خرچ کرتے ہیں جو فرض نہیں ہے ۔ یہ نہیں سوچتے کہ اِس خرچ کا فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟ وہ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جنکی تجوریاں پہلے سے ہی بھری پڑی ہیں۔ یعنی ایرلائینس ، ٹراویلنگ ایجنٹس ، ہوٹل مالکان، معلم وغیرہ۔

اندازہ لگائیے یہ پانچ چھ ارب روپیہ اگر ہر سال امت کی فلاح کیلئے لگ جائے تو چند سال میں یہ امت اُس مقام پر پہنچ جائے جہاں لوگ ہاتھ میں زکوٰة لئے مستحق کو ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور کوئی مستحق نہیں مِلتا۔

1 comment

  1. عبدالمنان says:

    السلام علیکم
    مکرمی علیم خان فلکی کی انسانیت دوستی اور مستحقین کی حاجت روائ کی سوچ پر عمل کیا گیا تو مسلمان کسی غیر کی امداد کے بغیرخود مکتفی اور خود کفیل ھو سکتے ہین-
    تعلیمی پسماندگی – دور کرنے کی مہم قائم کریں اور دیکہین اسمیں بھی ویسا ہی سکون اور اعزاز ہے- جیسے نفل عمرے مین –

    دینی تعلیم کا ادارہ قائم کرین یہ تو بہت اہم ھے کیونکہ استطاعت رکہنے والے بھی دینی تعلیم مفت ہی چاہتے ہین اسی لئے اسمین بڑا اجر ھے اور اعزاز بھی-

Leave a Reply