مذہبی پکنک یا آخرت کا سامان ۔۔۔؟

میرے عزیزو !
آؤ حج بیت اللہ ، عمرے اور مدینے کی زیارتوں کیلئے ۔ بار بار آؤ۔
لیکن اپنے شوقِ عبادت کو پورا کرنے کیلئے نہیں بلکہ اُس عظیم مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کے عزم کے ساتھ آؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اِن عبادتوں کا حکم دیا ہے۔
مدینے والے (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اپنی جان و مال لٹا دینے کے دعوے کرنے والو آؤ اور مدینے والے (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک ایک فرمان کو پورا کرنے کیلئے اپنی جان لٹادینے کی قسم کھانے کو آؤ۔

اُن کا فرمان ہے کہ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
اُن کا فرمان ہے کہ دوسرے کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔
ان کا فرمان ہے کہ سچا تاجر قیامت کے روز انبیاء کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔
ان کا فرمان ہے کہ جس شخص کی کمائی میں ناجائز آمدنی کا ایک لقمہ بھی شامل ہو اُس کی دعائیں زمین سے ایک ہاتھ بھی اوپر نہیں اُٹھائی جائیں گی۔
اُن کا فرمان ہے کہ جو بندہ اوروں کی خدمت میں لگ جاتا ہے فرشتے اُس کے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔

اگر مدینے والے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ ہے تو اُن کے اِن فرامین کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کی قسم کھانے ایک بار آجاؤ اور پھر دیکھو کہ کیسے زمانے بھر میں انقلاب آتا ہے۔
ان شاء اللہ ! وہ انقلاب آئے گا کہ جب آپ اِس عمرے یا حج سے لوٹ کر جائیں گے تو آپ کا وجود ایک مکمل دعوت بن جائے گا جس کے نتیجے میں کروڑوں ہندو ، عیسائی اور دوسرے تمام باطل مذاہب کے ماننے والے عمرہ یا حج کرنے کی تمنّا کریں گے ان شاء اللہ۔
اور اگر اِس مقصد کے بغیر آنا چاہتے ہو تو یاد رکھو یہ فقط ایک مذہبی پکنک کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
اِس سے کہیں بہتر ہے کہ معاشرے کی فلاح کے کسی کام میں یہ پیسہ لگا دو تاکہ دوسرے انسانوں کی زندگی کو فائدہ پہنچے اور ان کی دعائیں آپ کی آخرت کا سامان بن جائیں۔

اللہ تعالٰی ہم تمام کو یہ نکات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے !!

کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

فقط :
آپ کا خیر اندیش
علیم خان فلکی
(جدّہ ، سعودی عرب)

2 comments

  1. M.Saeed Abdul Rehman says:

    Assalamoalaikum,
    Brother, I deeply apreciate your efforts to bring forward such a nice book.
    I am sure this book will work as a turning point for most of our brothers.
    May Allah (swt) give you courage to shed light on other aspects of our society.
    Appreciate If I have your email.
    JazakAllah o Khair
    brother
    Saeed
    Jeddah

  2. محمد سلام says:

    آپ نے مضمون کے آخر میں جو شعر لکھا ہے – مومن کی جگہ “سعودی” زیادہ صحیح لگتا-
    آجکل تیغ بس نظر آتے ہیں سعودی عرب کی قومی تقاریب کے جشن مین- اور رقص مین بس- وہ بھی ہوا میں ھلا تے ہوئے –
    جن تلوارون کو اسلام کی حفاظت کرنا ھے وہ آلئہ رقص کی طور پر استعمال کی گیئن پھر تو طواف اور حج کو “ھنگام ” کہنے والے اسلام سے ہی مل جائنگے،ورنہ تو
    کعبہ کو مل پاسبان صنم خانہ سے بھی ہوا ہے-

    اللہ خیر کرے آپ سوچتے اور لکھتے بھی ہین – ھو رھیگا کچہ نہ کچہ

Leave a Reply