فلاحِ انسانیت کے اعمال

کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنے نفل عمرے کی کمائی ان بے شمار اُردو اخباروں اور رسائل پر لگا دیں جو اس زبان کو زندہ رکھنے کی کاوش میں لگے ہوئے ہیں؟
یا ان اُردو اسکولوں کی بقا پر لگا دیں جو صرف اُردو زبان کیلئے نہیں بلکہ اُردو زبان سے وابستہ ایک پورے دین ، کلچر ، تہذیب اور تاریخ کی بقا کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے شہروں کے باہر اضلاع میں ہزاروں یتیم غیر قوم کے دوسرے یتیم خانوں میں پل رہے ہیں اور غیر مذہب میں جذب ہو رہے ہیں؟
کیا ایک ایک فرد گاؤں اور دیہات میں یتیم خانے کی پوری ذمہ داری نہیں لے سکتا؟
کیا آپ نے وہ حدیث نہیں سنی کہ کسی یتیم کی پرورش کرنے والا قیامت میں میرے ساتھ اس طرح قریب ہوگا جیسے دو جُڑی ہوی اُنگلیاں ہوتی ہیں؟

آپ پوری انسانیت کی فلاح کے لئے پیدا ہوئے تھے لیکن افسوس آپ کا وقت آپ کا چندہ اور آپ کی توانائیاں صرف مسلمانوں کے لئے ہیں۔ اس لئے دوسری قومیں آپ کوانسانیت کا ہمدرد نہیں سمجھتیں۔ کیا آپ انسانیت کیلئے یہ نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص leprosy سنٹر کھول لے۔ کوئی TB یا AIDS کے لئے اپنا پیسہ وقف کر دے اور آپ بھی دوسری قوموں کو فائدہ پہنچائیں؟ کیا دوسری قوموں کے بے شمار اداروں سے مسلمان فائدہ نہیں اُٹھاتے؟

ہزاروں لڑکیاں جوڑے جہیز کی مجبوری کی وجہ سے غیر مذہب میں شادیاں کر رہی ہیں یا ان کے یہاں نوکریاں کر رہی ہیں اور بے شمار ایسی ہیں جو جسم بیچنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں ایسی ہیں جو بے سہارا ہیں۔ شوہر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں یا ناکارہ ہیں۔ ان کے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور چور اُچکے بن رہے ہیں ۔
کیا آپ کو انگریزی اور دوسرے اخبارات پڑھتے ہوئے یہ خیال نہیں آتا کہ کہیں کسی خبر میں کسی مسلمان کا نام نہیں آتا ؟ اگر آتا ہے تو صرف جرائم و حادثات کے کالم میں۔ کیا آپ کی غیرت نہیں جاگتی؟
کیا آپ اپنے نفل عمرے اور حج کی رقوم سے ایسے سنٹر قائم نہیں کر سکتے جہاں ایسی بے سہارا عورتوں اور ان کے بچوں کو سہارا دیا جا سکے؟

کون نہیں جانتا کہ جوڑا یا جہیز چاہے خوشی سے دیا جائے یا مطالبے پر، دونوں صورتوں میں حرام ہے۔ شادی کے دن کا کھانا جس کا خرچ لڑکی والوں پر ڈال دیا جاتا ہے یہ سب حرام ہیں۔لیکن لوگ جانتے بوجھتے اپنے فائدے کیلئے منافقت کرتے ہیں اور ان چیزوں کو جائز کرلیتے ہیں۔
ایک عمرے کی رقم میں کم سے کم پانچ ہزار کی تعداد میں ایک کتاب شائع ہو سکتی ہے جس کے ذریعے ان حرام کاموں سے لوگوں کو آگاہ کر کے رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ اپنے نفل عمروں اور حج کی رقموں کو ان قابل طلباء کے لئے وقف نہیں کر سکتے جن کے اندر بہترین تقریری اور تحریری صلاحیتیں ہیں جو غیر مسلموں میں جا کر سمینار یا ڈائیلاگ یا DEBATE کے ذریعے اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں ان کے ذہنوں میں بٹھا دی گئی ہیں اُن کو دور کر سکتے ہیں؟
یہی تو ہندو کر رہا ہے۔ یہی تو امریکہ اور اسرائیل کرتے ہیں۔

کیا آپ اُن کتابوں کو ہندی ، انگریزی ، تلگو، مراٹھی وغیرہ میں ترجمے کروا کے زندہ نہیں کر سکتے جو ہزاروں کی تعداد میں آج اُردو میں ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہی ہیں اور ان کے ساتھ ہی آپ کے دین کا اور تاریخ و ادب کا ایک عظیم سرمایہ ختم ہی نہیں بلکہ نیست و نابود ہو رہا ہے؟
صرف ایک نفل عمرے یا حج کی قیمت میں کم سے کم دو کتابیں شائع ہوسکتی ہیں جو جب تک پڑھی جاتی رہیں گی آپ کیلئے نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔

آج ہر شہر وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے اور مسلمان بھی ایک سے ایک اعلٰی اور شاندار گھر بنا رہے ہیں لیکن دور دور تک کوئی مسجد نہیں ملتی۔ کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں کوئی مسجد نہیں ہے۔ بے حِسی کی انتہا یہ ہے کہ خود مسلمان ایسے کئی پلاٹنگ کے کاروبار میں شامل ہیں جس میں کمرشیل پلاٹ تو سینکڑوں ہوتے ہیں لیکن پوری کالونی میں کوئی مسجد نہیں ہوتی ۔ اگر ہوتی بھی ہے تو بمشکل سو آدمیوں کیلئے بھی کافی نہیں ہوتی۔ کیا آپ دو چار حضرات مِل کر اپنے عمروں اور حجوں کی رقموں سے نئی نئی بستیوں میں مسجدیں تعمیر نہیں کر سکتے؟

کتنے ایسے بے گناہ معصوم نوجوان ہیں جن کو دہشت گردی کے جرم میں مہینوں بلکہ سالوں سے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے اور جو اپنے خاندانوں کے واحد کمانے والے ہیں۔ اِن کو آزاد کروانا قُرآن کے الفاظ میں ”گردنوں کو چُھڑانے “ کی تعریف میں داخل ہے۔ ایک ایک نفل عمرے یا حج کی قیمت میں ایک ایک خاندان مصیبت سے آزاد ہو سکتا ہے۔

اگر آپ اِن کاموں میں سے کسی کام کو بھی ضروری نہیں سمجھتے کوئی بات نہیں لیکن اُس کام کو تو شروع کر سکتے ہیں جو آپ ہی کے ذہن میں سب سے زیادہ اہم ہے اور جس سے امت کا فائدہ ہو سکتا ہے؟ اس طرح کسی کا ذہن دینی میدان میں تو کسی کا تعلیمی میدان میں کسی کا ادبی میدان میں تو کسی کا اور کسی میدان میں کام کرے گا۔
اس طرح ہندوستان اور پاکستا ن سے ہر سال ہزاروں نفل عمرہ اور حج پر جانے والوں کا ایک ایک لاکھ روپیہ اگر مختلف اجتماعی ترقی کے کاموں پر لگنا شروع ہو جائے تو ان شاءاللہ آئندہ 10 تا 15 سال میں اس امت کا اخلاقی معاشی دینی و سیاسی نقشہ بدل جائے گا۔

Leave a Reply