حج / عمرہ : صحیح فوائد کو پہچانیں

حدیث میں آتا ہے کہ :
حج یا عمرہ کر کے لوٹنے والا معصوم بچے کی طرح پاک ہو جاتا ہے۔
معصوم بچہ سب کو پیارا ہوتا ہے۔ لوگ اس کا مذہب یا رنگ یا ذات نہیں دیکھتے۔ ہر ایک اُس سے پیار کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا، کسی کو اس سے جھوٹ ، غیبت، دھوکہ، حسد، سازش یا فساد کی توقع نہیں ہوتی۔

اگر آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے ایسے ہی پیار کریں جیسے معصوم بچے سے پیار کرتے ہیں۔
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ قربانی کا گوشت جیسے ہی کسی کے گھر پہنچے لوگ یہ جان لیں کہ آج کے بعد اللہ کے حکم کے سامنے اگر اولاد بھی رکاوٹ بنے تو آپ اولاد کو بھی اِسی طرح ذبح کر سکتے ہیں۔
اگر آپ واقعی یہ عزم رکھتے ہیں کہ ہر قسم کے بت کو توڑیں گے تو بخدا بار بار عمرے اور حج کا ارادہ کیجئے آپ کا عمرہ یا حج پورے زمانے کیلئے باعثِ تقلید ہوگا۔
ورنہ ۔۔۔
اگر حج یا عمرے کا مقصد جانے بغیر اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے چالو کھاتے میں سے کچھ گناہ کم کرنے اور کچھ نیکییاں ڈپازٹ کرنے کی نیت سے آتے رہے، معاشرے کا نظام وہی عورتوں کے ہاتھوں میں رہا اور آپ باہر تو بڑے نیک اور پارسا بنے رہے لیکن آپ کی خوشیوں اور غموں کے مواقع، شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پرورش، جمع پونجی و خرچ وغیرہ سب کچھ عورتوں کے ہاتھ میں رہے اور معاشرے کے اکثریتی مردوں کی طرح بیویوں کے غلام رہیں۔
جوڑے جہیز کی لعنت ہندو گھرانوں کی طرح آپ کے گھر کی بھی زینت بنتی رہے۔ دو دو چار چار بیٹوں کے والد ین شان سے دو دو چار چار عمرے کرتے رہیں اور بیٹیوں کے باپ قرض چکاتے چکاتے عمریں گزار دیں۔نہ گھر بدلے نہ سیاست بدلے، نہ معاشرہ بدلے نہ معاشیات کا نظام تو خدارا یہ تو سوچئے کہ سی این این اور بی بی سی وغیرہ پر کروڑوں غیر مسلم مکہ اور مدینہ میں شبِ قدر اور حج کے لاکھوں انسانوں کے مجمع کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے؟
یہی نا کہ ہندو گنپتی پر پیسہ لٹاتے ہیں اور آپ مزاروں پر یا مکہ مدینہ کے سفر پر۔ آپ کے پاس ثواب کا نظریہ ہے ان کے پاس پُنّ کا۔ کرشمے اور کرامات کے قصے آپ بھی سناتے ہیں اور وہ بھی۔کاشی اور امرناتھ جا کر یا گنگاجل میں نہا کر اُنہیں بھی اُتنی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جتنی آپ کو زم زم سے وضو کر کے۔

سوال یہ ہے کہ ایک مومن اور مشرک کی عبادت میں فرق کہاں ہے؟
جس عبادت سے زندگی کے اطوار نہیں بدلتے ،گھر خاندان اور محلّے میں جس عبادت سے ایک اخلاقی انقلاب برپا نہیں ہوتا اُس عبادت میں صرف مال، وقت اور توانائیوں کا زیاں ہوتا ہے۔ جس عابد کو فقط اپنی پسند کی عبادت کرنے کے اطمینان کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا وہ ایک مشرک کی عبادت تو ہو سکتی ہے مومن کی نہیں۔

اسلام کی کوئی عبادت ایسی نہیں جس سے انسان کی اپنی زندگی اور گھر اور خاندان میں ایک انقلاب نہ آتا ہو۔اور حج اور عمرہ تو عظیم عبادت ہے جس کے صحیح فائدے اگر پچاس فیصد بھی ظاہر ہو جائیں تو اندھے دیکھنے لگیں اور بہرے سننے لگیں۔

صاحبو! یا د رکھو ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک حاجی وہ ہوتا ہے جو احرام باندھ کر ابھی سواری پر پاؤں ہی رکھتا ہے کہ اُس کی لبّیک کی صدا کے ساتھ ہی فرشتے پکار اُٹھتے ہیں کہ مبارک ہو تجھے تیرا حج قبول کر لیاگیا
اور ۔۔۔
ایک حاجی وہ ہوتاہے جو پورا حج کر لیتاہے اپنے آپ کو تھکاتا ہے مال خرچ کرتا ہے لیکن فرشتے اُس پر افسوس کرتے ہیں ۔کہتے ہیں تیراحج تیرے منہ پر مار دیاگیا کیونکہ تیرا مال حرام، تیری کمائی، تیرا کھانا، تیرا کپڑا سب کچھ حرام سے آلودہ تھا۔

جن گھروں میں جوڑے جہیز کا حرام مال جمع ہو، جس گھر میں سود اور رشوت کا مال جمع ہو۔جب تک کہ شدید مجبوری نہ ہو سود پر گھر گاڑی اور دوسری اشیاء جمع کی گئی ہوں۔ جس کمائی کیلئے جھوٹ بولنا جائز کر لیاگیاہو۔ جن گھروں میں مال کا اسراف کرنے کے لئے ایسی ایسی نئی تقریبات ایجاد کرلی گئی ہوں جن کو نہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پسند کیا نہ صحابہ (رضوان اللہ عنہم اجمعین) نے ۔۔۔ایسے گھروں کے افراد جب حج پر حج اور عمرے پر عمرے کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ بیت اللہ کا تقدّس پامال ہوتا ہے بلکہ اسلام کی عظیم عبادتیں دنیا والوں کے لئے باعثِ تمسخر بن جاتی ہیں !!

Leave a Reply