اللہ کی راہ میں خرچ ۔۔۔؟

کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بار بار کے عمرے اور حج پر ٹراویلنگ ایجنٹ کو لاکھو ں روپے دیتے وقت کوئی دکھ نہیں ہو تا لیکن ایک ضرورت مند سامنے آجائے یا اُمت کی فلاح کے لئے کوئی اپیل کر دے تو طبیعت پر ناگواری طاری ہو جاتی ہے ۔ ایک دو ہزار جیب سے نکالتے بھی ہیں تو دِلی تکلیف ہو تی ہے۔ اِنہیں جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ مانگنے والا ان کا بعد میں احسان مند اور ممنون و مشکور رہے گا دس روپے بھی نہیں دیتے۔ دیتے بھی ہیں تو اِس طرح کہ مانگنے والا اگر ان کو حساب پیش نہ کرے تو آئندہ اُسے آنے نہیں دیتے اور بدنام کرتے ہیں۔
ایسا اس لئے ہو تا ہے نفس کو حج و عمرہ مرغوب ہے ۔مرغوب عبادت میں مزا بھی آتا ہے جو پیسہ یا وقت اپنی ذات پر خرچ ہو ایسی عبادت اچھی لگتی ہے۔ انفاق یعنی اللہ کی راہ میں دوسروں پر خرچ کر نے سے اپنے مال میں کمی ہو جانے کا خوف ستاتا ہے ۔اس لئے کسی کی مدد کر نے کے سوال پر وہی کہہ اٹھتے ہیں جو مشرکین و منافقین کہہ اٹھتے تھے کہ
” وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ “
ترجمہ : ” وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم آخر کتنا خرچ کریں “۔
(سورہ البقرہ)
ڈھائی فیصد زکٰوة و خیرات تو ہم کر تے ہی ہیں اور کیا کریں ؟
آگے جواب میں کہا گیا۔
” قُلِ الْعَفْوَ “
ترجمہ: ” ان سے کہہ دیجئے سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیجئے سِوائے اسکے جو آج کی کھانے کی یا پہننے کی ضرورت کا ہے ۔ “
یہی ہے زکوٰة کا اور انفاق کا اصول !

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا قول یاد رہے :
” ڈھائی فیصد کا حساب تو منافق کر تے ہیں “۔
یعنی منافق دِکھانے کے لئے نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے۔ روزہ بھی رکھتے تاکہ کوئی ان پر اعتراض نہ کرے ۔ مومن کے لئے ڈھائی فیصد یا پانچ فیصد کا سوال ہی کیا۔ جب ضرور ت مند سامنے آجائے یا کسی غیرت مند محتاج کی خبر اسے مِل جائے تو وہ اپنے پاس جو بھی ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اُس شخص کی امانت سمجھ کر فوری خرچ کر ڈالتا ہے۔ ڈھائی فیصد یا پانچ فیصد کا سوال نہیں کرتا ۔ یہ انتظار بھی نہیں کرتا کہ کوئی آئے اور اُس سے مانگے اور نہ یہ انتظار کرتا ہے کہ اُس کے مال پر سال پورا گزرا ہے یا نہیں؟
وہ خود اپنا فریضہ سمجھ کر اپنے خاندان اور قرابت داروں میں تلاش کرتا ہے کہ کون محتاج ہے اور کون بیمار؟ کون بیوہ ہے اور کون بچہ تعلیم یا روز گار سے محروم ہے۔ کون سا باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لئے پریشان ہے اور کون حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی سنت پرقائم رہتے ہوئے بغیر جوڑا یا جہیز کے مردانہ خودداری کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مالی طور پر مجبور ہے ؟

3 comments

  1. احمد ارشد حسین says:

    اسلام عیلکم
    آپکی ویب سایٹ دیکھ کر خوشی ہوی۔ اللہ آپکو جزاے خیر دے۔ آمین

    کچھ اہم لنکس ارسال ہیں ضرور مطالعہ کیجے۔

    http://kitaabghar.com/bookbase/raghib/mahjur2.html

    http://www.mubashirnazir.org/ER/Slavery/L0019-00-Intslavery.htm
    http://www.kitaabghar.com/bookbase/farhad/haqaieqafsanay-1.html

  2. زاہد اقبال says:

    جزاک اللہ خےرآ!
    اللہ ہم مسلمانوں کو ہدایت اور دین کی صحیح سمجھ دے۔

  3. عبدالمنان says:

    السلام علیکم
    واہ سبحان اللہ

Leave a Reply